کاروار،14/اگست (ایس او نیوز) حالیہ دنوں میں لوگوں کا اپنے بچوں کو اچھے اور مہنگے بالخصوص انگریزی میڈیم والے اسکولوں میں داخل کرانے کے رحجان میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری اسکولوں میں داخلہ کم ہوتا جارہا ہے، بھٹکل میں کئی اُردو میڈیم اسکول بند ہوچکے ہیں، جو دو تین اسکول بچے ہیں، وہ بھی بند ہونے کے دہانے پر ہیں، حالانکہ ایس ایس ایل سی نتائج سامنے آنے پر دیکھا گیا ہے کہ سرکاری اسکولوں کی تعلیم اور بچوں پر محنت پرائیویٹ اسکولوں کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔ مگراس کے باوجود سرکاری اسکولوں میں بچوں کو بھیجنے کی شرح سال در سال کم ہوتی جارہی ہے۔
پتہ چلا ہے کہ ضلع اُترکنڑا کے قریب تین سو اسکول ایسے ہیں، جہاں طلبہ کی تعداد کافی گھٹ گئی ہے، جس کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اب 10 سے کم طلباء والے سرکاری اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مغربی گھاٹ اور اس سے متصل ضلع اُتر کنڑا 80 فیصد جنگلات پر مشتمل ہے، جہاں دیہاتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہاں کے طلباء کی سہولت کے لئے ہر گاؤں میں اسکول قائم کئے گئے ہیں۔ بعض مقامات پر دیہات میں آبادی کم ہونے کی وجہ سے اسکولوں میں بچوں کی تعداد بھی کم ہوئی ہے۔ البتہ پتہ چلا ہے کہ تعلیمی ضلع کاروار میں 10 سے کم طلبہ والے 148 اسکول ہیں۔ضلع اُترکنڑا کا ایک اور تعلیمی ضلع سرسی ہے وہاں بھی 149 اسکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں 10 سے کم طلباء پڑھتے ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ ان اسکولوں میں زیادہ تر مستقل اساتذہ کی کمی ہے۔ان اسکولوں کو مہمان اساتذہ چلارہے ہیں۔ تاہم اب حکومت اساتذہ کی کمی کو دور کرنے کے لئے 10 سے کم طلباء والے اسکولوں کو دوسرے قریبی اسکولوں میں ضم کرنے کے سلسلے میں غور کررہی ہے۔
ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا نے اس بارے میں بتایا کہ 10 سے کم طلباء والے اسکولوں کو قریبی اسکول میں ضم کرنے سے بچوں کے درمیان مقابلہ بڑھے گا، کیونکہ 4 یا 5 بچوں والے اسکولوں کےبچوں کو دوسرے اسکولوں میں ضم کرنے سے مقابلہ بنے گا، ورنہ دو بچے پہلے اور دوسرے نمبر پر آئیں گے۔ا نہوں نے توقع ظاہر کی کہ اگر ان بچوں کے لئے بسوں کا انتظام کیا جائے تو سرکاری اسکولوں میں بچوں کا داخلہ بڑھ سکتا ہے، لیکن اس بات کا بھی امکان ہے کہ ایسا کرنے کی مخالفت بھی ہوسکتی ہے، انہوں نے بتایا کہ کسی اسکول میں صرف 4 یا 5 بچے ہوں گے تو ان اسکولوں میں استاد مقرر کرنا بھی مشکل ہے۔ ایسی صورت میں یہی کیا جاسکتا ہے کہ ان اسکولوں کے بچوں کو دوسرے سرکاری اسکولوں میں منتقل کرائیں۔